12 جنوری 2014 - 20:30
نائب وزيرخارجہ: مذاکرات میں پیشرفت

اسلامي جمہوريہ ايران کے نائب وزيرخارجہ اور سينئر ايٹمی مذاکرات کار سيد عباس عراقچی نے تہران ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ اس اتفاق رائے کے مطابق پچھلے چوبيس نومبر کو جنيوا ميں ہونےوالے سمجھوتے پر عمل درآمد کے لئے پہلا قدم بيس جنوری کو اٹھايا جائےگا۔

ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کے نائب وزيرخارجہ اور سينئر ايٹمی مذاکرات کار سيد عباس عراقچی نے تہران ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ اس اتفاق رائے کے مطابق پچھلے چوبيس نومبر کو جنيوا ميں ہونےوالے سمجھوتے پر عمل درآمد کے لئے پہلا قدم بيس جنوری کو اٹھايا جائےگا۔  اس اتفاق رائے کے تحت ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے ممالک ايک مقررہ مدت کے لئے رضاکارانہ طور پر اقدامات انجام ديں گے۔ پانچ جمع ايک گروپ کے ممالک ايران کے خلاف عائد پابنديوں کو اٹھاليں گے اور ايران بھی يورينيم کي بيس فيصد افزودگي کو روک دے گا۔ مالي امور ميں بھي دوسرے ملکوں ميں ايران کے تيل کي آمدنی کے چار اعشاريہ دو ارب ڈالر جو روک لئےگئےہيں وہ آئندہ چھے مہينے ميں آٹھ قسطوں ميں ايران کو دے ديئے جائيں گے۔ اس اعلان سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ہي فريق جنيوا سمجھوتے کےسلسلے ميں ايک مشترکہ سوچ پر پہنچ گئے ہيں ليکن جنيوا سمجھوتہ خود آگے چل کر ايک جامع سمجھوتےتک پہنچنے کا ايک عبوری مرحلہ ہے۔ اس درميان ايران کے نائب وزير خارجہ عباس عراقچی نے ايران کے قومي ٹي سے ايک گفتگو ميں بتايا کہ جنيوا سمجھوتے ميں اگرچہ کہا گيا ہے کہ ايران کميت کے اعتبار سے اپنی ايٹمي سرگرميوں ميں اضافہ نہيں کرے گا ليکن کيفيت کے اعتبار سے سرگرمياں جاري رکھنے يا بڑھانے پر کوئي پابندی نہيں ہے۔ ايران کے سينئر ايٹمی مذاکرات کار سيد عباس عراقچی نے کہا کہ سمجھوتے ميں طے پايا ہے کہ ايران کے خلاف پابنديوں ميں اضافہ نہيں ہوگا اور ايران بھی اپني ايٹمی سرگرميوں کي موجودہ پوزيشن سے آگے نہيں بڑھےگا۔  سيد عباس عراقچی نے کہا کہ ايران کی جانب سے اپنے بيس فيصد افزودہ يورينيم کو رقيق کئے جانے کے عوض مقابل فريق کو بھی کئی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فريق مقابل ايران کے تيل کي فروخت ميں رکاوٹ نہيں کھڑی کرےگا، پٹروکيميکل کي برآمدات اور اس سے متعلق ديگر امور منجملہ بيمہ اور بحری جہاز رانی پر عائد پابندياں ختم کرے گا جبکہ سونے اور ديگر قيمتی دھاتوں کی تجارت اور اسی طرح ہوائی جہازوں اورگاڑيوں کے فاضل پرزوں کی درآمدات پر بھی عائد پابندی ختم کردی جائےگی۔ انہوں نے پانچ جمع ايک گروپ کےساتھ حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے مذاکراتی عمل کے بارے ميں کہا حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے مذاکرات کا زيادہ سے زيادہ وقت ايک سال مقرر کيا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فريق جنيوا سمجھوتے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد چھے مہينے کے اندر کسی حتمی نتيجے پر نہ پہنچ سکے تو سمجھوتے کی مدت کو صرف ايک بار چھے مہينے کے لئے بڑھايا جائے گا تاکہ کسی حتمی نتيجے تک پہنچنے کے لئے مذاکرات جاری رہ سکيں۔

.......

/169